سوال و جواب⚖
🕌مسئلہ نمبر 595🕌
(کتاب الصلاۃ، باب القراءۃ)
منفرد کے سری نماز میں جہر کرنے اور خواتین کی جہری قراءت کا حکم
سوال: تحقیق یہ کرنی تھی کہ سر اور جہر کا واجب ہونا جماعت سے متعلق ہے یا نماز سے متعلق ہے؟ مثلا اگر کوئی منفرد ہے چاہے وہ عورت ہو یا مرد ہو تو وہ سری نمازوں میں جہر کرسکتے ہیں؟ خاص طور پہ عورتوں کے لئے کیا حکم ہے؟ اگر وہ جہرا نماز پڑھیں تو کیا حکم ہے؟ اور کتنا سر ہونا چاھئے عورتوں کے لئے؟ اس سلسلہ میں تفصیلات مطلوب ہیں کیونکہ خصوص عورتوں کے جھرا نماز پڑھنے کے سلسلہ میں مجھے دلائل متعارض نظر آرہے ہیں اور الگ الگ دلائل مل رہے ہیں۔ (مفتی حذیفہ صاحب پالنپوری)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون اللہ الوہاب
بیشتر فقہاء احناف کی تحقیق میں سر اور جہر کا تعلق جماعت والی نماز سے ہے؛ چنانچہ فتاوی تاتارخانیہ، تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، منح الغفار، شرنبلالیہ، منحۃ الخالق علی البحر الرائق، فتاویٰ ہندیہ اور فتاوی شامی وغیرہ میں نہایت واضح الفاظ میں اس کی صراحت موجود ہے(١)
اس لئے امام کے لیے واجب ہے کہ وہ سر اور جہر کی رعایت کرے، اگر وہ رعایت نہیں کرے گا تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، البتہ منفرد یعنی جو تنہا نماز پڑھنے والا ہے خواہ مرد ہو یا عورت اس کے لیے سر اور جہر کی رعایت ضروری نہیں ہے؛ لیکن فقہاء کرام کے درمیان اس سلسلے میں تو اتفاق ہے کہ جہری نماز میں منفرد کے لئے جہر کرنا ضروری نہیں ہے؛ یعنی اسے جہر اور سر کا اختیار ہے، البتہ سری نماز میں عبارات فقہاء مختلف ہیں، بعض اکابر فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ منفرد پر سری نمازوں میں سری قراءت کرنا واجب نہیں ہے؛ یعنی چاہے تو جہری قراءت بھی کر سکتا ہے، یہی نقطۂ نظر ظاہر الروایہ میں منقول ہے اور فتاوی تاتارخانیہ میں بھی المحیط البرہانی کے حوالے سے یہی نقل کیا گیا ہے، نیز صاحب ذخیرہ اور اصحاب شروح ہدایہ کا بھی یہی مختار قول ہے، اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ سر اور جہر کا تعلق جماعت والی نماز سے ہے؛ اس لیے قیاس اور اصول کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سری نماز میں منفرد کو آہستہ اور زور سے قراءت کا اختیار ہونا چاہیے۔
جبکہ بعض دیگر فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ منفرد کے لئے سری نمازوں میں آہستہ قراءت کرنا ضروری ہے، حتی کہ زور سے قراءت کرنے پر گناہ بھی ہوگا، یہ قول فتاویٰ تاتارخانیہ میں مذکور ہے اور فتاوی ہندیہ میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے اور اس کو قول اصح سے تعبیر کیا گیا ہے (٢)
لیکن اگر کچھ مزید غور و تأمل سے کام لیا جائے تو اس اختلاف کا حل نکل سکتا ہے اور دونوں قول پر عمل کرنا ممکن ہوسکتا ہے، حل کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سر اور حد کی تعیین کرلی جائے، گو کہ سر اور جہر کی صفت اور حد میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے؛ لیکن اس سلسلے میں فتاویٰ تاتارخانیہ میں علامۂ ہند عالم بن العلاء الحنفی نے مشہور و معتبر حنفی فقیہ شیخ ابو الحسن الکرخی کے حوالے سے یہ بات لکھی ہے کہ جہر کی کم سے کم حد یہ ہے کہ آدمی اتنی آواز میں قراءت کرے کہ وہ خود سن سکے اور اس کی زیادہ حد یہ ہے کہ دوسروں کو بھی سنا سکے، جبکہ سر کی کم سے کم حد یہ ہے کہ حروف کی ادائیگی ہوجایے(٣)
سر اور جہر کی مذکورہ بالا تعریف کی رو سے اگر کوئی شخص اتنی آواز میں قراءت کرتا ہے کہ حروف میں تمیز ہوجائے یا اتنی آواز میں پڑھتا ہے کہ خود سن لے تو سر اور جہر کی ان دونوں صورتوں میں نماز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور اگر اتنی تیز قراءت کرتا ہے کہ دوسرے لوگوں تک آواز جاتی ہے تو یہ صورت درست نہیں ہوگی؛ کیونکہ یہ ایک بے مقصد چیز ہے؛ جس کی شرعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔
جہاں تک تعلق ہے خواتین کی نماز کا کہ وہ سری قراءت کریں گی یا جہری؟ تو اس سلسلے میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ چونکہ خواتین کی آواز بھی پردہ ہے؛ اس لیے وہ احتیاطاً ہر دو طرح کی نمازوں میں سری قراءت کریں گی، اور اگر زور سے بھی پڑھیں گی تو بس اس قدر کہ وہ خود سن سکیں دوسروں تک آواز نہ جائے۔ فتاوی شامی، حلبی کبیری اور فتاوی دارالعلوم دیوبند میں اسی قول کو اختیار کیا گیا ہے (٤)۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) والجهر من سنية الصلاة بجماعة فيما يجهر (الفتاوى التاتارخانية ٦٠/٢ كتاب الصلاة باب القراءة زكريا جديد)
و في شرح الزيلعي و منح الغفارةو الشرنبلالية و المنفرد لا يجب عليه السجود بالجهر و الإخفاء لأنهما من خصائص الجماعة. (منحةالق على هامش البحر الرائق ٩٦/٢ باب سجود السهو، الفتاوى الهندية ١٨٨/١ كتاب الصلاة باب سجود السهو، زكريا جديد)
على خلاف ما في الهداية و الزيلعي و غيرهما من أن وجوب الجهر و المخافتة من خصائص الإمام دون المنفرد (رد المحتار على الدر المختار ٦٥٧/٢ كتاب الصلاة باب سجود السهو الأشرفية)
(٢) ﻭاﻟﺤﺎﺻﻞ ﺃﻥ اﻟﺠﻬﺮ ﻓﻲ اﻟﺠﻬﺮﻳﺔ ﻻ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻨﻔﺮﺩ اﺗﻔﺎﻗﺎ؛ ﻭﺇﻧﻤﺎ اﻟﺨﻼﻑ ﻓﻲ ﻭﺟﻮﺏ اﻹﺧﻔﺎء ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻲ اﻟﺴﺮﻳﺔ ﻭﻇﺎﻫﺮ اﻟﺮﻭاﻳﺔ ﻋﺪﻡ اﻟﻮﺟﻮﺏ ﻛﻤﺎ ﺻﺮﺡ ﺑﺬﻟﻚ ﻓﻲ اﻟﺘﺘﺎﺭﺧﺎﻧﻴﺔ ﻋﻦ اﻟﻤﺤﻴﻂ، ﻭﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﺬﺧﻴﺮﺓ ﻭﺷﺮﻭﺡ اﻟﻬﺪاﻳﺔ ﻛﺎﻟﻨﻬﺎﻳﺔ ﻭاﻟﻜﻔﺎﻳﺔ ﻭاﻟﻌﻨﺎﻳﺔ ﻭﻣﻌﺮاﺝ اﻟﺪﺭاﻳﺔ. ﻭﺻﺮﺣﻮا ﺑﺄﻥ ﻭﺟﻮﺏ اﻟﺴﻬﻮ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﺫا ﺟﻬﺮ ﻓﻴﻤﺎ ﻳﺨﺎﻓﺖ ﺭﻭاﻳﺔ اﻟﻨﻮاﺩﺭ اﻩـ ﻓﻌﻠﻰ ﻇﺎﻫﺮ اﻟﺮﻭاﻳﺔ ﻻ ﺳﻬﻮ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻨﻔﺮﺩ ﺇﺫا ﺟﻬﺮ ﻓﻴﻤﺎ ﻳﺨﺎﻓﺖ ﻓﻴﻪ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﻋﻠﻰ اﻹﻣﺎﻡ ﻓﻘﻂ. (رد المحتار على الدر المختار ٦٥٧/٢ كتاب الصلاة باب سجود السهو الأشرفية)
أما إذا كان منفرداً إن كانت صلاة يخافت فيها يخافت وان جهر يكون مسيئا (الفتاوى التاتارخانية ٦٠/٢ كتاب الصلاة باب القراءة زكريا جديد)
و إن كان منفرداً صلاة يخافت فيها يخاف حتما، هو الصحيح. (الفتاوى الهندية ١٢٩/١ كتاب الصلاة الباب الرابع في صفة الصلاة)
(٣) و اختلفوا في حد الجهر والمخافتة قال الشيخ أبو الحسن الكرخي: أدنى الجهر أن يسمع نفسه و أقصاه أن يسمع غيره، و أدنى المخافتة تحصيل الحروف. (الفتاوى التاتارخانية ٥٩/٢ كتاب الصلاة باب القراءة، زكريا جديد)
(٤) قال الشيخ كمال الدين ابن الهمام: صرح في النوازل بأن نغمة المرأة عورة و بني عليه أن تعلمها القرآن من المرأة احب، قال لأن نغمتها عورة.... و على هذا إذا جهرت بالقرآن في الصلاة فسدت. (حلبي كبيري ص ٢١٧)
و في الكافي: و لا تلبي جهرا لأن صوتها عورة، و مشى عليه في المحيط،د في باب الأذان، بحر. و على هذا إذا جهرت بالقرآن في الصلاة فسدت. (رد المحتار على الدر المختار ٩٧/٢ كتاب الصلاة مطلب في ستر العورة)
فتاویٰ دار العلوم دیوبند ٢٦٦/٢ باب قراءۃ فی الصلاۃ، مکتبۂ دار العلوم دیوبند
كتبه العبد محمد زبير الندوي
مورخہ 26/5/1440
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment