⚖
IMPORTANT
🌄مسئلہ نمبر 696🌄
(کتاب الصلاۃ باب الجنائز)
kiya napaak mard ya aurat maiyat ko choo saktey hain?
كيا ناپاک مرد و عورت میت کو چھو اور دیکھ سكتے
سوال حائضہ عورت اسی طریقے سے ناپاک مرد میت کو چھو سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ (ابو ابرار ندوی، بھنگڑی خضر آباد، شرقی، یمنانگر ہریانہ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق
جب کسی انسان کا انتقال ہوجاتا ہے تو جہاں انسانوں کی بھیڑ اس کے پاس جمع ہوجاتی ہے وہیں فرشتے بھی آ موجود ہوتے ہیں، بلکہ نیک بندوں کے پاس رحمت کے فرشتے بھی آجاتے ہیں اور رحمت کے فرشتے ناپاکی اور بدبو کو قطعاً پسند نہیں کرتے؛ بلکہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی ناپاک شخص ہو؛ اسی لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ میت کے پاس ناپاک مرد و عورت نہ رہیں؛ بلکہ وہاں سے دور ہوجائیں؛ تاکہ رحمت کے فرشتوں کو تکلیف نہ ہو، اس لئے میت کے پاس حیض والی خواتین اور ناپاک مردوں کو نہیں بیٹھنا چاہیے، اور ہاتھ بھی نہیں لگانا چاہیے؛ کیونکہ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ناپاک اور حیض والی عورت کا غسل دینا مکروہ ہے ظاہر کہ غسل دینے میں ہاتھ لگتا ہے اس لیے غسل کے علاوہ بھی چھونا کراہت سے خالی نہیں ہوگا، ہاں کھڑے کھڑے چند لمحوں میں اگر ناپاک اور حائضہ زیارت کرلیں تو حرج نہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ ".
حكم الحديث: ضعيف. (سنن ابي داود حديث نمبر ٢٢٧ كِتَابُ الطَّهَارَةِ | بَابٌ : فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ)
، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ ".
حكم الحديث: ضعيف. (سنن النسائي حديث نمبر ٢٦١ كِتَابُ الطَّهَارَةِ | بَابٌ فِي الْجُنُبِ إِذَا لَمْ يَتَوَضَّأْ)
و يخرج من من عنده الحائض والنفساء و الجنب لامتناع حضور الملائكة بسببهم. (الفقه الاسلامي وادلته ١٤٨١/٢ كتاب الصلاه باب الجنائز)
و يخرج من من عنده الحائض والنفساء و الجنب لامتناع (رد المحتار على الدر المختار ٩٧/٣ كتاب الصلاه باب الجنائز مطلب في اطفال المشركين رشيدية)
وينبغي ان يكون غاسل الميت على الطهارة و لو كان الغاسل جنبا أو حائضا أو كافرا جاز و يكره. (الفتاوى الهندية ١٥٩/١ كتاب الصلاة باب الجنائز)
كتبه العبد محمد زبير الندوي
مورخہ 27/5/1440
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment