Monday, February 11, 2019

Wazu ki fazeelat aur barkat

وضو کا بیان

وضو کی فضیلت وبرکت

وضو کی عظمت واہمیت اس سے زیادہ اور کیا ہو گی! کہ خود قرآن میں نہ صرف اس کا حکم ہے بلکہ تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وضو میں کن کن اعضاء کو دھویا جائے، اور یہ بھی وضاحت کی کہ وضو نماز کی لازمی شرط ہے۔

یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ اَیْدِیْکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَاْمْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبِیْنِ ۔ (المائدہ ۶)

’’مومنو! جب تم نماز پڑھنے کے لیے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کو دھولو، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو، اور اپنے سروں پر مسح کر لو، اور پھر اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھو لو۔‘‘

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی فضیلت وبرکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا

’’میں قیامت کے روز اپنی امت کے لوگوں کو پہچان لوں گا!‘‘

کسی نے کہا یارسولؐ اللہ یہ کیسے؟وہاں تو ساری دنیا کے انسان جمع ہوں گے؟ فرمایا

’’ایک پہچان یہ ہو گی کہ وضو کی وجہ سے میری امت کے چہرے اور ہاتھ پاؤں جگمگا رہے ہوں گے۔‘‘

اور ایک موقع پر آپؐ نے اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا

’’جو (میرے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق) اچھی طرح وضو کرے اور وضو کے بعد کلمہ شہادت

اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُٗ وَرَسُوْلَہٗ۔

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔‘‘ پڑھے ، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے کہ وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو۔‘‘ (مسلم)

نیز آپؐ نے فرمایا

’’وضو کرنے سے چھوٹے چھوٹے گناہ دھل جاتے ہیں اور وضو کرنے والا آخرت میں بلند درجات سے نوازا جاتا ہے اور وضو سے سارے ہی بدن کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔‘‘ (بخاری، مسلم)

اور ایک موقع پر تو آپؐ نے وضو کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے

’’ٹھیک ٹھیک راہِ حق پر قائم رہو، اور تم ہرگز راہِ حق پر جمنے کا حق ادا نہ کر سکو گے (لہٰذا اپنے قصور ار عاجزی کا احساس رکھو) اور خوب سمجھ لو کہ تمہارے سارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے اور وضو کی پوری پوری نگہداشت تو بس مومن ہی کر سکتا ہے۔‘‘ (مؤطا امام مالک ابن ماجہ)

وضو کا مسنون طریقہ

وضو کرنے والا پہلے یہ نیت کرے کہ میں محض خدا تعالیٰ کو خوش کرنے اور اس سے اپنے عمل کا صلہ پانے کے لیے وضو کرتا ہوں پھر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کہہ کر وضو شروع کرے۔ (ابوداؤد، ترمذی)

اور پھر یہ دعا پڑھے

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ (نسائی)

’’اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے اورمیری رہائش گاہ میں میرے لیے کشادگی پیدا فرما دے اور میری روزی میں برکت عطا فرما دے۔‘‘

حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کا بیان ہے کہ

’’میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی لایا، آپؐ نے وضو کرنا شروع کیا، تو میں نے سنا کہ آپؐ وضو میں یہ دعا (یعنی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ ) پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا یارسول اللہ! آپؐ یہ دعا فرما رہے تھے؟ ارشاد فرمایا، میں نے دین ودنیا کی کون سی چیز مانگنے سے چھوڑ دی!‘‘

وضو کے لیے پہلے داہنے ہاتھ میں پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک خوب اچھی طرح مَل مَل کر دھوئیے، پھر داہنے ہاتھ میں پانی لے کر تین بار کلی کرے، اور مسواک بھی کرے۱؂، اور اگر کسی وقت مسواک نہ ہو تو شہادت کی انگلی اچھی طرح دانتوں پر مَل کر دانت صاف کرے، اگر روزے سے نہ ہو تو تینوں بار غرارہ بھی کرے یعنی حلق تک پانی پہنچائے کلی کرنے کے بعد تین بار ناک میں اس طرح پانی ڈالے کہ پانی نتھنوں کی جڑ تک پہنچ جائے۱؂۔ اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے، ناک میں پانی ڈالنے کے لیے ہر بار نیا پانی لے پھر دونوں ہاتھ مل کر لپ میں پانی لے لے کر تین بار پورا چہرہ اس طرح دھوئے کہ بال برابر بھی کوئی جگہ سوکھی نہ رہ جائے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو داڑھی میں خلال بھی کرے تاکہ بالوں کی جڑ تک پانی اچھی طرح پہنچ جائے اور چہرہ دھوتے وقت بسم اللہ اورکلمہ شہادت کے بعد یہ دعابھی پڑھے

اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ وَجْھِیْ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ (علم الفقہ)

’’اے اللہ میرا چہرہ اس دن روشن فرما دے جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے تاریک ہوں گے۔‘‘

پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اچھی طرح مَل مَل کر دھوئے پہلے دایاں ہاتھ پھر بایاں ہاتھ تین تین بار دھوئے۔ اگر ہاتھ میں انگوٹھی وغیرہ ہو تو ہلا لے اور عورتیں بھی اپنی چوڑیاں اور زیور وغیرہ ہلا لیں تاکہ پانی اچھی طرح پہنچ جائے اور ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر خلال بھی کرے، پھر دونوں ہاتھوں کو پانی سے تر کرکے سر اور کانوں کا مسح کرے

No comments: